Maranatha Global

The Spirit and the bride say, “Come!” – Rev. 22:17


18
Aug

pakistan1-150x1501Baptism by Water پانی سے بپتسمہ

for better display of the script click to  download the pdf file   baptism-by-water

متی 20-19: 28

“جائو اور جا کر تمام قوموں کو شاگرد بنائو، ان کو باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ دو، اور انہیں یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے”

تقریبا تمام چرچزبعض اشکال میں اپنے ممبران کیلئے پانی کا بپتسمہ عمل میں لاتے ہیں، بعض کسی موقع پر پانی کا بپتسمہ حاصل کر چکے ہوتے ہیں اور بعض پاسبان بپتسمہ منعقد کرتے ہیں۔


اگرچہ بپتسمہ کے بارے میں عملیات اور تعلیمات ایک چرچ کے دوسرے چرچ سے مختلف ہوتے ہیں۔ رسمی، ادب و آدابی چرچز شیر خواربچوں کو بپتسمہ دیتے ہیں، ایونجیلیکل چرچز اپنے ممبران کو جب وہ تھوڑے بڑے ہو جائیں، بات کرنا یا خوشخبری کو سمجھنے کے بعد بپتسمہ دیتے ہیں۔ چند چرچز، بدقسمتی سے یہ سکھاتے ہیں کہ پانی کا بپتسمہ نجات کیلئے ضروری ہے۔ ہم نے نئے پاسبانوں سے یہ سوالات موصول کیے کہ ہم ماراناتھا میں بپتسمہ کیسے کرتے ہیں اور اس موضوع کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں۔ یہ موضوع کچھھ بنیادی نقاط کی طرف متوجہ کرتا ہے، نقاط جن کو ہم نہایت ضروری قرار دیتے ہیں۔

ایماندار کا بپتسمہ۔

نئے عہد نامہ میں بپتسمہ ہمیشہ ایک فیصلہ کے ساتھھ منسوب تھا جو کہ انفرادی طور پر لیا جاتا تھا۔ یہ ظاہری نشان یا خدا سے ایک سنجیدہ وعدہ میں منسوب ہونا تھا۔ بپتسمہ پہلے کتاب مقدس میں یوحنا بپتسمہ دینےوالے کے ساتھھ ظاہرہوا جس نے گناہوں کی معافی کیلئے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کی۔ ﴿مرقس 4: 1، لوقا 3: 3، اعمال 4-3: 19﴾ توبہ اپنی پسند﴿مرضی﴾ ہے، ایک سنجیدہ روحانی فیصلہ۔

اس سے پہلے، یہودی پانی سے دھونے پر مشتمل کئی مذہبی رسومات رکھتے تھے۔ ﴿دیکھیں یوحنا 6: 2، مرقس 4-3: 7، یوحنا 25: 3،متی 2: 15 اور لوقا 38: 11 بھی دیکھیں﴾ ان میں سے بعض بطور قبل ازوقت پیراگرافوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ ایک سادہ مذہبی رسومات جو کہ وقت کے گزرنے کے ساتھھ بنی تھیں۔ دوسری پرانے عہد نامہ کی تقریبات کا حصہ تھیں جن کی صرف قدیم اسرائیلی پیروی کرتے تھے،عام اشیاء کو علیحدہ کرنے کیلئے ﴿جسے ناپاک بھی کہا جاتا ہے﴾ مخصوص اشیاء سے﴿پاک﴾۔ ﴿دیکھیں خروج 14-10: 19، خروج 4: 29، خروج 21-18: 30، احبار 27: 6، 6: 8، 29-25: 11، 58-54: 13، 9-8: 14، 28-26: 16، گنتی 10-7: 19﴾۔ صلیب پر مسیح کے مرنے کے بعد ﴿کلیسیوں 14: 2﴾ان تقریبات کی ضروریات ہم پر عائد نہیں ہوتیں۔ ان رسومات کی طلب کسی دل کی تبدیلی یا روحانی عہد نہیں ہوتا۔ یہ صرف عمل ہیں جو بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ بعض مذاہب کی رسومات آج بھی پانی کے ساتھھ شامل ہیں، بدقسمتی سے، بعض مسیحیوں نے آج بپتسمہ کو بے معنی رسم بنا دیا ہے، جب یوحنا بپتسمہ دینے والا آیا، اسرائیلی پانی میں دھونے کو مذہبی مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ لیکن حیران کن یہ تھا کہ اس نے اس کو توبہ کے ساتھھ جوڑ دیا، ایک شخص کی زندگی اور رویہ میں ایک مکمل تبدیلی۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو ان کو بپتسمہ دینے کا کہا جو شاگرد بنیں “شاگرد” ایک سنجیدہ لفظ تھا جس کے پیچھے اس کے معنی مکمل طور پر مختلف پیروکار بننے کے ہیں۔ کوئی ایک جو اس کی زندگی مکمل طور پر تبدیل کرتا ہے اس کا بطور استاد اس کے ساتھھ منسوب ہوتا ہے۔ جب یسوع نے کہا کہ شاگرد بنائو اور بپتسمہ دو، یہ واضح ہے کہ بپتسمہ ایک سنجیدہ، زندگی تبدیل کرنے والا ہو گا جہاں شخص خود اپنے آپ پرغور کرے گا۔ اس کی زندگی کا ہر حصہ یسوع مسیح کی طرف غور کرے گا۔

ابتدائی کلیسیاء نے بپتسمہ کو اس طرح سمجھا۔ پولس کہتا ہے کہ بپتسمہ ہماری پرانی زندگی کے خاتمہ اور مسیح میں نئی زندگی جینے کا نشان ہے۔ ﴿کلیسیوں 12: 2، رومیوں 4: 6﴾ پطرس نے لوگوں کو بپتسمہ لینے سے پہلے توبہ کرنے کو کہا۔ ﴿اعمال 38: 2﴾ بپتسمہ چرچ ممبران کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے، ہم کسی کو بپتسمہ نہ دیں جب تک کہ وہ حقیقی طور پر خوشخبری کو ابھی نہ سمجھتا ہو، یا مسیح کے ساتھھ ایک سنجیدہ عہد نہ باندھے۔ چرچ میں نئے آنے والے جو یسوع کے ذریعے نجات کو نہ سمجھتے ہوں یا جو توبہ کے بغیر گناہ میں رہتے ہوں، بپتسمہ حاصل نہ کریں۔

نوجوانوں کا بپتسمہ

کیونکھ بپتسمہ توبہ کا نشان ہے، ایماندار بننے کے لیے بہت ہی سنجیدہ پسند، مستقل مسیح کا خادم، ہم چھوٹے بچوں یا شیر خواروں کو بپتسمہ نھ دیں۔ ہم صرف ان کو بپتسمہ دیں جو بڑے ہوں یا کم سے کم یہ سنجیدہ فیصلہ لینے کے بارے میں سمجھتے ہوں کہ وہ کس قسم کا شخص بننا چاہتے ہیں۔ جب رومن کیتھولک اور ایسٹرن اورتھوڈکس چرچز نے بچوں کو بپتسمہ دینا شروع کیا﴿رسولوں کے چند سال بعد﴾ یہ نجات اور تبدیل ہونے کے نظریے کے کھونے کی وجہ بنا۔ ایک دفعہ ہر ایک پیدائش سے بپتسمہ والا مسیحی ہو جاتا تھا تو کوئی بھی ان کو توبہ کی ضرورت، مسیح کے ساتھھ ذاتی رشتہ یا ایک تبدیلی کے تجربہ کے بارے میں نہیں سکھاتا۔ شیرخوار اور چھوٹے بچے بپتسمہ حاصل کرنے کے بارے میں اپنی مرضی نہیں کر سکتے۔ بچوں کو بپتسمہ دینا حقیقی مسیحی بنانے کی بجائے، تہذیبی مسیحی بناتا ہے۔ شیرخوار کا بپتسمہ ایمان کے زریعے نجات کی تمام سمجھھ کو بالآخر باہر کر دیتا ہے۔

جب ماراناتھا شروع ہوا، دوسرے چرچز کی طرح ہم نے اپنے ممبران کو جب وہ 12 سال کی عمر تک پہنچ جاتے بپتسمہ دیا۔ چند سال پہلے، خداوند نے نبوتی طور پر ہمارے رہنمائوں کو کہا کہ ہمیں اپنے ممبران کو 15سال کی عمر تک پہنچنے تک انتظار کرنا چاہیے، کیونکہ ﴿کم سے کم مغربی معاشروں میں﴾ 15 سال سے کم عمر بچے پختہ ذہن نہیں ہوتے اور سنجیدہ فیصلے نہیں لے سکتے۔

ان کے لئے جو ماراناتھا میں شامل ہوں، سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ان کو بطور ایماندار بپتسمہ دیا جائے  جو کہ ان کے مسیح کے پیروکار اور نئے سرے سے پیدا ہونے کے فیصلہ کے بعد دیا جائے۔ عام طور پر وہ لوگ جو بچپن میں دوسرے چرچز میں بپتسمہ حاصل کرتے ہیں، نوجوانی میں ان کو دوبارہ چاہیں گے، اب کے وہ ایماندار ہیں۔ ماراناتھا میں ہم ان کو دوبارہ بپتسمہ دیں گے جن کے والدین نے ان کو شیرخواری میں بپتسمہ دلایا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر کسی شخص نے ایک کتاب مقدس کو ماننے والے چرچ میں ایماندار کا بپتسمہ حاصل کیا ہو، ہم ان کو دوبارہ بپتسمہ نہیں دیتے۔ یہ سچ ہے اگرچہ جب یہ واقع ہوا ہو ان کی عمر 15 سال سے کم بھی ہو مگر وہ شیرخوار نہ تھے۔ایونجلیکل یا پینتیکاسٹل کا کیا ہوا بپتسمہ کو دوبارہ بپتسمہ دینے کی ضرورت نہیں ہوتے جب وہ ہمارے چرچ میں شامل ہوتے ہیں۔

غوطہ خوری

کتاب مقدس میں بپتسمہ جمع پانی ﴿ندی یا دریا﴾ میں واقع ہوتا ہے۔ بپتسمہ کیلئے یونانی لفظ کا مطلب پانی کے اندر اوپری سطح پر غوطہ لگانا ہے۔ جب ہم بپتسمہ دیں، چنانچہ ہم ترجیح دیتے ہیں کہ ایک شخص کو پوری طرح ایک سیکنڈ یا کچھھ دیر کیلئے غوطہ میں رکھیں۔ خداوند ہمیں کہہ چکا ہے، بہرحال، یہ کہ وہ تھوڑے سے چھڑکائو کے بپتسمہ کو قبول کرے گا۔ بہرحال وہ غوطہ کے بپتسمہ کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ خاص حالات میں جہاں ہم ایک شخص کو پانی میں بپتسمہ نہیں دے سکتے ﴿اس شخص کی طرح جو ہسپتال میں بستر پر ہو جو پانی کے اندر نہ جا سکتا ہو﴾ ہم چھڑکائو استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ہم زیادہ تر غوطہ کے ساتھھ بپتسمہ دیتے ہیں۔

باپ، بیٹا اور پاک روح کے نام میں۔

یم ہمیشہ ممبران کو “باپ، بیٹا اور پاک روح کے نام میں” بپتسمہ دیتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح یسوع نے متی 20-19: 28 میں حکم دیا ہے، یہ بہت ہی واضح ہے اور یہاں کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کچھھ اور کریں۔ ہم اس کی فرمانبرداری چاہتے ہیں۔

کچھھ چرچز اس کی بجائے “یسوع کے نام میں” بپتسمہ دینے پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ اس کی وضاحت کیلئے اعمال 38: 2کا حوالہ دیتے ہیں لیکن یہ پطرس کے منادی کے پیغام کا خلاصہ ہے، اس کی وضاحت نہیں ہے کہ بپتسمہ کیسے دیا جائے۔ پطرس اپنے یہودی ناظرین سے یسوع کو مسیحا قبول کرنے کی ضرورت کے بارے میں اشارہ کر رہا تھا۔ اس نے یوحنا کا توبہ کا بپتسمہ جو کہ اس وقت  یسوع کے ساتھھ منسوب تھا دکھانے کیلئے اس “توبہ کرو اور گناہوں کی معافی کیلئے بپتسمہ لو”فقرے کا استعمال کیا۔

حقیقت میں چرچز جو یسوع کے نام میں بپتسمہ پر اصرار کرتے ہیں وہ تثلیث پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ حقیقی وجہ ہے وہ یہ الفاظ منہ سے نکالنے سے ڈرتے ہیں جو یسوع نے ہمیں کہنے کیلئے کہا۔ جب تم بپتسمہ دو، کیونکہ یہ صاف طور پر تثلیث کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ ڈھونڈتے اور یسوع کے نام کے باری میں کتاب مقدس کی آیات کو کھیچنے میں اور یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یسوع باپ اور پاک روح کا نام ہے۔ یہ ناقابل قائل ہے۔ یہ یسوع کا ہمیں یہ بتانا کھ “باپ، بیٹا اور پاک روح کے نام میں” اس معاملے میں کوئی سمجھھ نہیں رکھتا۔

آسمان میں داخل ہونے کیلئے ضروری نہیں۔

یسوع اپنے تمام شاگردوں سے چاہتا ہے کہ بپتسمہ لیں۔ یہ متی 20-19: 28 سے واضح ہوتا ہے۔ ہم اس کو فرمانبرداری میں کرتے ہیں اور جب ہم کرتےہیں تو روحانی برکات حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ ایک مسیحی اپنے زندگی مسیح کے آگے ڈال دیتا ہےاس لئے وہ بچ جاتا ہے حالانکہ ابھی اس نے بپتسمہ نہیں لیا ہوتا۔ اگر ایک نیا تبدیل ہونے والا بپتسمہ سے پہلے مر جائے، وہ بھی آسمان میں جائے گا۔ یاد رکھیں کہ یسوع کے ایک طرف صلیب پر ڈاکو کو بپتسمہ لینے کا موقع نہیں ملتا، تو بھی یسوع نے اس کو یقین دلایا کہ ” تو آج ہی میرے ساتھھ فردوس﴿آسمان﴾ میں ہوگا۔ ﴿لوقا 43: 23﴾ بپتسمہ “باہر آنے کا” حصہ یاہماری نجات کا سامان ﴿فلپس 12: 2﴾، مسیحی زندگی کا حصہ ہے۔ بعض چرچز غلط تعلیمات دیتے ہیں کہ نجات کیلئے پانی کا بپتسمہ ضروری ہے۔

یہ ہماری نجات کو ایک ظاہری عمل یا کام پر انحصار کرنا بناتا ہے۔ اگرچہ کتاب مقدس ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ایمان کے ذریعے فضل پاتے ہیں۔ ” کیونکہ تمیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکھ خدا کی بخشش ہے اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے۔ ﴿افسیوں 9-8: 2﴾ ہماری نجات ہمارے کسی بھی اچھے کام پر انحصارنہیں کرتی جس میں شامل بپتسمہ لینے کا اچھا کام بھی شامل ہے۔ بپتسمہ اچھا ہے لیکن ہم یہ دل میں ڈالیں کہ یہ ہمارے آسمان میں داخل ہونے کیلئے ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے نجات کی کتاب مقدس کی تعلیمات کو نہ بگاڑیں۔

جسم ﴿مسیحی بدن، گروہ﴾ میں بپتسمہ

بپتسمہ ایک مقامی چرچ یا ایک مقامی چرچز کے گروہ جو کہ ایک بدن یا گروہ میں کام کرتے ہوں کے ساتھھ رابطے کے لیے دیا جاتا ہے۔ دیکھیں 1کرنتھیوں 13: 12 ان مبشروں کی بڑی غلطی ہے جو ایک بڑے اجتماع ﴿کروسڈ﴾ کے بعد نئے تبدیل ہونے والے بہت سے لوگوں کو بپتسمہ دیتےہیں۔ کس کی کوئی قدر نہیں ہوتی کہ وہ مقامی چرچ میں کہاں رفاقت حاصل کر سکیں گے۔ یہ مقامی چرچز کیلے اچھا ہے کہ وہ نئے تبدیل ہونے والوں کو جب وہ چرچ کے ممبر بن جائیں اور باقاعدگی کے ساتھھ چرچ میں حاضر ہوں ان کو بپتسمہ دیں۔

ماراناتھا میں بپتسمہ کیسے عمل میں لایا جاتا ہے۔

پہلے، پاسبان نئے تبدیل ہونے والے کو ہدایات دیتا ہے اور اس پر ہاتھھ اٹھا کر دعا مانگتا ہے۔ تب پاسبان اس شخص کو پیچھے کی طرف پانی میں نیچے کرتے ہیں۔

صرف ایک یا دو سیکنڈ کیلئے۔ خداوند حسب معمول ایماندار کیلئے مکاشفہ یا کچھھ نظریات دیتا ہے۔ ﴿خاص طور پر اس کی روحانی زندگی کے بارے میں وعدے یا اس کے لئے خدا کا منصوبہ﴾ اور پاسبان اس کی وضاحت کرتے اور نظریات کو سمجھھ کر تشریح کرتے ہیں۔

ترجمہ

شکیل انجم

فیصل آباد۔ پاکستان

Have questions or interested in more information on this topic? Please ask a pastor.
Tags : , , ,
Category : Urdu اردو