God is Light خدا نور ھے
” جو پیغام ھم نے سنا اور تمہیں سناتے ہیں وہ یھ یے کہ خدا نور ہے اور اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔ اگر ھم اس کے ساتھ رفاقت رکھنے کا دعوی کرتے ہیں اور خود تاریکی میں چلتے ہیں تو ھم جھوٹے ہیں اور سچائی پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ھم نور میں چلتے ہیں جیسا کہ وہ نور میں ہے تو ھم ایک دوسرے سے رفاقت رکھتے ہیں اور اس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے۔” (۱یوحنا ۷۔۵: ۱)
خدا ہمیں مکاشفہ کے ذریعے نور دیتا ہے۔ وہ ہمیں یہ دیتا ہے تا کہ وہ ایک ایماندار کلیسیاء تیار کرے جو ھمیشہ اس کی حضوری میں رہے۔ اسکا نور اس مقدس اور مکمل منزل کی طرف روز بروز کیا ھماری رہنمائی کرتا ہے۔ کیا پیغام رسول نے دیا؟ بعض لوگ آج یہ قبول کرتے ہیں کہ رسولوں نے ایک طرح کے پیغامات جو آج وہ چرچزمیں سنتے ہیں دیئے۔ وہ جو ھمیشہ “خوشحالی کی تعلیمات” یا “مقصدی پیغامات” اور یہ ظاہر کرنا کہ رسول اسی طرح تعلیم دیتے آئے ہیں سنتے ہیں۔ وہ جو ہمیشہ شعوری، مفکرانہ پیغامات جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ابتدائی کیسیاء عبرانی گرائمر کے بارے میں ایسے ہی پیغامات کی تعلیم دیتے تھے، سنتے ہیں۔ اگرچہ کتاب مقدس بعض جگہوں میں صاف صاف بتاتی ہے۔ یسوع اور رسولوں نے کیا تعلیم دی اور یہ ان تعلیمات سے مشابہت نہیں رکھتی جو آج ھم اپنے ارد گرد سنتے ہیں۔
یوحنا کہتا ہے، اس کا پیغام سادہ تھا: خدا نور ہے اور اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں ہے۔ مکمل مقدس، کوئی بھی سمجھوتہ یا ملاوٹ نہیں، نہ کوئی غلطیاں۔ اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔ قدیم زمانے کے لوگ جھوٹے خدائوں کی پرستش کرتے تھے جو کہ اچھائی اور برائی کا مرکب تھے۔ جو قوت اور کمزوری رکھتے تھے۔ ان کے مذاہب سمجھوتوں سےاور ان کے نظریات سے بھرےہوئے تھے۔ حتی کہ آج بھی ان قدیم مذاہب کے چھوڑے ہوئے نشانات “ینگ۔ یانگ” کی طرح جو کہ نور اور تاریکی کی قوتوں کے فاسفورس کو دور کر کے ان کو برابر ٹھہراتے ہیں۔ جھوٹے خدا پرست اور جھوٹے مذاہب ایسی توقعات تخلیق کرتے ہیں کہ ان کے پیروکار بھی برائی اور اچھائی ، نور اور تاریکی کا مرکب بن جایئں۔ وہ خالص نور کی پیش کش نہیں کر سکتے۔
ہم کبھی بھی خدا کے نور یا مکاشفے کے ساتھ کسی بھی قسم کے انسانی خیالات یا آراء کی ملاوٹ نہیں کرتے۔ اس میں ذرا بھی تاریکی نہیں ہے، نہ کوئی غلطیاں، نہ ھماری تھذیب پر انحصار، وقت یا ترجیحات۔
رسولوں کے پیغام کا دوسرا حصہ مذہبی فریب اورروحانی استحکام کے بارے میں تھا۔ ہر مذہب میں ایسے لوگ ہیں جو ایماندار ہونے کا دعوی کرتے ہیںلیکن وہ بعض اوقات اپنے راستوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ابتدائی چرچ نے یہ تمام یا کوئی بھی پیغام خدا کی مرضی پورا کرنے کے بارے میں نہیں دیا۔ وہ کوئی بھی ایک خطہ کے مسیحی یا پوری دنیا کے ایمانداروں کی قسمیں نہیں رکھتے تھے۔ جس طرح یوحنا نے مسیح کے ساتھ رشتہ رکھنے کا دعوی کرتے ہوئے اسکو کہا۔ ﴿اگر ہم کہیں کہ ھم اس کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں﴾ جبکہ ھم تاریکی میں چل رہے ہوں ہمیں جھوٹا بناتا ہے، لوگ جو ہمارے ایمان عمل میں نہیں لاتے ﴿سچائی کو عمل میں نہیں لاتے﴾ کتاب مقدس میں “سچ” کوئی ایسی چیزجو آپ کرتے ہیں، مزید یہ کہ کوئی ایسی چیز جو آپ مانیں۔ آج لوگ یہ خیال کرتے ہیں سچ کو ماننا “سچ پر عمل” کرنے کے بغیر کافی ہے۔
ان کا پیغام، چنانچہ ریاکاروں ﴿مکاروں﴾ کو ملامت کرنے کا منفی پہلو نہیں دیتا تھا۔ وہاں ایک حیران کن وعدہ ہو ریا تھا۔ ان کیلئے جو نور میں چلتے ہیں۔ ھم ہمیشہ روحانی بدن﴿مسیح کا بدن﴾﴿ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت﴾ میں اس کا ایک جزو بن کر نشوونما پائیں، اور ھم مسیح یسوع کا خون کے ذریعے گناہ سے صفائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت کچھہ معجزاتی ہے، نہ کہ ھماری قدرتی طور پر ایک لمبے عرصہ کے لئے لوگوں کے ایک گروہ سے ملنا قدرتی یا اتفاقی، ھماری ایک دوسرے کے ساتھ بی تکلفی اور گرم جوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سچی رفاقت پاک روح کا عمل ہے جو کہ انسانی دوستی اور درس گاہ کا ماپ لیتی ہے۔ اس قسم کی سچی رفاقت پاک روح کا معجزہ ھوتا ہے جو ہمیں اکٹھے ایک ایماندار کلیسیاء کی طرف جا رہا ھوتا ہے۔ مسیح کے ساتھ اصلی رشتے کا نہایت ہی ضروری حصہ ہے۔ یہ انجام ہے یا نور میں چجلنے کا نتیجہ، مکاشفہ میں رہنا اور سچائی کو عمل میں لانا۔ یہ رفاقت کی تعریف ہے۔
یسوع کا خون ہمیں تمام گناہوں سے صاف کرتا ہے۔ بعض مسیحی سمجھتے ہیں کہ یسوع کا خون کفارہ اور معافی مہیا کرتا ہے۔ اگرچہ بعض نہیں سمجھتے کہ یہ ھماری زندگیوں سے گناہ کو مٹا بھی دیتا ہے۔ ان خدا کے لوگوں میں تبدیل کر دیتا ہے جو خدا کے مقصد کے لیے اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ یہ پاک قرار دینے﴿یا مقدس ہونے﴾کی تعریف ہے۔ یہ رسولوں کے پیغام کا بنیادی حصہ تھا۔
ھم “نور میں چلنے” کی تعریف کس طرح کر سکتے ہیں؟ یوحنا ہمیں بتاتا ہے “جس طرح وہ نور میں ہے” یہ کہ “یسوع کی طرح” یسوع کو ہمیشہ اپنے آسمانی باپ کی آواز سنتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا کہ باپ نے کیا مجھے کہا کہ میں کہوں اور یہ کرتے کہ کیا باپ نے مجھے کہا کہ میں کروں۔ وہ تمام وقت نور میں تھا۔ لافانیت سے مکاشفہ میں رہا، اس دنیا کی تاریکی یا گناہ میں نہیں پڑا۔ یہ ہے کہ کس طرح ھم نور میں خدا کے مکاشفہ میں چلیں۔ تیرےنور میں ھم نور دیکھیں۔ ﴿زبور ۹: ۳۶﴾ “تیرے کلام کی تشریح نور بخشتی ہے۔ ﴿زبور ۱۳۰: ۱۱۹﴾
ترجمھ
شکیل انجم
فیصل آباد ۔ پاکستان