Maranatha Global

The Spirit and the bride say, “Come!” – Rev. 22:17


19
May

urdu-fancy1Download as pdf: gideon_all

(translated from English sermon: Gideon Chooses His Men For Battle – Judges 7:2-3)

جدعون لڑائی کیلئے اپنے آدمی چنتا ہے(Gideon Chooses His Men For Battle)

تب خداوند نے جدعون سے کہا تیر ساتھ کے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ میں مدیانیوں کو انکے ہاتھ میں نہیں کر سکتا ایسا نہ ہو کہ اسرائیلی میرے سامنے اپنی اوپر فخر کر کے کہنے لگیں کہ ہمارے ہاتھ نے ہم کو بچایا۔ سو تو اب لوگوں میں سنا سنا کر منادی کر دے کہ جو کوئی ترسن اور ہراسان ہو وہ لوٹکر کوہ جلعاد سے چلا جائے چنانچہ ان لوگوں میں سے بائیس ہزار تو لوٹ گئے اور دس ہزار باقی رہ گئے۔ (قضاۃ7:2-3

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ خدا جدعون کو استعمال کرتا ہے تا کہ وہ مدیانیوں کو اسرائیلوں کے ہاتھ میں کر دے۔ جدعون لڑائی میں اپنا ساتھ دینے کیلئے آدمی چنتا ہے۔ دشمن تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ پہلے جدون خیال کرتا ہے کہ اسے بہت زیادہ لوگوں کی ضرورت ہے تا کہ جیت ممکن ہو سکے۔ وہ 32000 لوگ اکھٹے کرتا ہے جو کہ جنگ کیلئے جدعون کے خیال میں کافی ہیں۔ تب خداوند کہتا ہے کہ یہ بہت زیادہ لوگ ہیں۔ یہ تمام لوگ اس لڑائی میں حصہ نہیں لے سکتے۔ جدعون نے آدمیوں کی ایک بڑی جماعت سے کہا کہ لڑائی بھیانک ہو سکتی ہے اور یہ صرف بہادر کیلئے ہے اس لئے آج خداوند صرف بہادر کیلئے ہے۔ صبح سویرے دعا، روزے، منادی اور اس طرح کی کئی چیزیں ہم ضرور اپنی زندگی میں سنتے ہیں، جس طرح جدعون اپنے آدمیوں کو آگاہ کرتا ہے اسی طرح ہم بھی ضرور دیانت داری سے جانیں کہ ہماری لڑائی خداوند کے منصوبے کیلئے کٹھن ہو سکتی ہے جو کوئی روحانی طور پر کمزور پروان نہیں چڑھا سکتے۔ جب جدعون نے پہلے آگاہی دی تو حقیقی فوج میں سے دوتہائی سے زیادہ 22000 آدمی وہاں سے چلے گئے۔ ۔ جدعون نے ضرور ناامیدی محسوس کی ہو گی کہ وہ کس طرح باقی بچے ہوئے صرف دس ہزار آدمیوں کے ساتھ جیت سکتا ہے؟ یہ سکتے میں آنے والی بات تھی لیکن خداوند نے جدعون سے کہاکہ ابھی بھی آدمی بہت زیادہ ہیں۔ تب خداوندنے کہا کہ ان کو جو کتے کی طرح اپنی زبانوں سے پانی پرگرکرچپڑ چپڑ کر کے پانی پیتے ہیں ان کو ان سے الگ کرو جو گھٹنوں کے بل پیتے ہیں۔ تین سو آدمیوں نے گر کراپنا ہاتھ اپنے منہ کے ساتھ لگا کر پیا اور باقیوں نے اپنے گھٹنے ٹیک کر پانی پیا۔ خداوند نے جدعون سے کہا کہ تین سو آدمیوں کے ساتھ جنہوں نے گر کرچپڑ چپڑ کر کے پیامیں مدیانیوں کو تمہارے ہاتھ میں کر دوں گا۔ (قضاۃ 7:4-7) دوسرے الفاظ میں بقایا 9700 آدمیوں نے اپنا منہ پانی میں ڈال کر پانی پیا۔ صرف تین سو آدمی کھڑے رہے اور پانی اپنے ہاتھ میں بھرا اور اپنے ہاتھ میں سے چپڑ چپڑ کر کے پیا۔ خداوند نے کہا کہ یہ تین سو آدمی مدیانیوں کے خلاف لڑائی میں جدعون کی فوج میں شامل ہوں گے۔خداوند ہمیشہ300 کی طرح تعداد میں تھوڑے لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔خداوند نے اگلی ہدایت دی کہ ان کو تین گروہوں میں تقسیم کر دو۔ 100 آدمیوں کے تین گروہ۔یہ ہمیں تین کے مجموعہ کی طرف اشارہ کراتا ہے۔ باپ ، بیٹا، اور روح القدوس جو ہمیشہ اکٹھے کام کرتے ہیں۔

جو کی روٹی (Barley Bread)

اگر تو نیچے جاتے ڈرتا ہے تو تو اپنے نوکر فوراہ کے ساتھ لشکر گاہ میں اتر جا اور تو سن لیگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اسکے بعد تجھ کو ہمت ہو گی کہ تو اس لشکر گاہ میں اتر جائے۔ (قضاۃ7:9-11)

جدعون نے اپنے نوکر فوراہ کو ساتھ لیا اور مدیانیوں کے لشکر گاہ کے قریب گیا۔ جب وہ وہاں پہنے انہوں نے دو آڈمیوں کی آوازوں کو سنا جن میں سے ایک اپنے خواب کے متعلق بات کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے ایک خواب دیکھا جو کی ایک روٹی مدیانی لشکر گاہ میں گری اور لڑھکتی ہوئی خیمہ گاہ کے پاس پہنچی اور ان سے ایسی ٹکرائی کہ وہ گر گیا اور اسکو ایسا الٹ دیا کہ وہ خیمہ ڈھیر ہو گیا۔ (قضاۃ 7:13-14) جب جدعون نے یہ سنا تو وہ سمجھ گیا کہ خداوند نے اس بتلا یا ہے کہ لڑائی جلد شروع ہوگی لیکن جو ہتھیار استعمال ہوگا وہ کوئی معمولی ہتھیار نہیں ہوگا۔ یہ ایک انوکھا ہتھیار تھا، خالی مٹی کا گھڑا، مشعل اور نرسنگا۔ جدعون اور اسے کے آدمیوں نے مشعل کو گھڑے کے اندر رکھا اور دوسرے ہاتھ میں نرسنگا پکڑا۔ جب وہ قریب پہنچ گئے تو وہ گھڑا توڑ دیں گے اور مشعل کی روشنی واضح ہو گی۔ تب وہ نرسنگا پھونکیں گے جب وہ اس طرح کریں گے تو مدیانی اپنے لشکر گاہ میں سے حیرانگی اور پریشانی کے ساتھ بھاگیں گے اور مدیانی اپنی تلوار ایک دوسرے پر چلائیں گے۔ خداوند کے فرشتے خداوند کے دشمن لشکر کے ساتھ لڑیں گے جبکہ کوئی آدمی ان کو نہ دیکھ سکے گا۔

تمام خداوند جدعون سے جو چاہتا تھا وہ فرمانبرداری تھی۔ یہ ٹوٹا ہو ا گھڑا ہے جب آدمی اپنے مصیبت اٹھاتا ہے اور لاچار ہو جاتا ہے۔ جب ہم حقیقی طور پر لاچار ہو جاتے ہیں تب خداوند کی روشنی واضح ہوتی ہے اور ہمیں روشن کرتی ہے۔ تب ہمارے ارد گرد نرسنگا پھونکا جاتا ہے۔ فرشتوں کی فوج کو ہدایت ملتی ہے یہ فوج ہماری طرف سے لڑتی ہے اور غالب آتی ہے ۔ یہ خداوند کے کام کی ایک عظیم فتح ہے ۔ ہمیں ضرور گھڑا توڑنا ہے تا کہ روشنی نمایاں ہو تب نرسنگا پھونکا جائے گا تا کہ فرشتے اپنا کام سنبھالیں۔ کن لمحات میں خداوند نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ مدیانیوں کو زیر کرے گا؟

سب سے پہلے فرشتہ جدعون پر واضح ہوا اور اسے بہادر آدمی کہہ کر پکارا۔ خداوند نے ان لمحات کو فتح دی جب جدعون نے گندم ٹھنڈے فرش سے لی اور اسے مشکیزہ میں بھرا۔ فتح ہماری ہے جب آخر میں ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ خداوند انسانی رویہ کی وجہ سے باوجود مکاشفہ میں کامل ہونے کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا ۔

جغرافیائی دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوتا، یہی روحانی حقیقت ہے۔ اب ہم قومیت کے بارے میں نہیں سوچ سکتے، ہمیں ضرور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا ہے جو آسمان کی طرف جارہے ہیں، وہ لوگ جو مدیانیوں پر غالب آئیں گے۔ اگر خداوند کے لوگ اس عظیم راز کو جان لیتے ہیں تو وہ دشمن پر غالب آ سکتے ہیں۔ دنیا کا راز یسوع کے خون میں چھپا ہے ۔ یوحنا مکاشفہ میں کیا دیکھتا ہے؟ ’’وہ خون میں بھیگی ہوئی پوشاک دیکھتا ہے جسکا نما خدا کا کلام ہے‘‘ (مکاشفہ 19:13) بنجر زمین پر گندم وجوہات کے مطابق کلام کو بیان کرتی ہے، مشکیزہ میں گندم الہام (مکاشفہ) کے مطابق ہے۔

Have questions or interested in more information on this topic? Please ask a pastor.
Tags : , , , , , , ,
Category : Urdu اردو